اشاعتیں

2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

استاد کی تعریف: اصلی استاد یا معلم کون ہوتا ہے؟

*اچھا اُستاد* ’’استاد وہ نہیں جو کتاب پڑھائے، اصل استاد تو وہ ہےجس کی بات دلوں کو چھوجائے!‘‘ استاد کی تعریف  استاد ایک موٹیویٹر ہوتا ہے۔ استاد کیلئے صرف پڑھا دینا، بتا دینا کافی نہیں ہے۔ عمل کیلئے اکسانا، قوتِ ارادی پیدا کرنا، عزم پیدا کرنا، انرجی پیدا کرنا۔۔۔ استاد کا کام ہے۔ پچھلے سو سال کے اندر صر ف انہی ملکوں نے ترقی کی ہے جہاں پڑھانے کا لائسنس ہے۔ وہاں پر اسلحے کا لائسنس آسانی سے مل جاتا ہے، مگر پڑھانے کا اجازت نامہ مشکل سے ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلحے سے صر ف اتنے لوگ مرسکتے ہیں جتنی گولیاں اس میں ہوتی ہیں، جبکہ ایک استاد میں لامحدود گولیاں ہوتی ہیں۔ اس میں اتنا بارود ہوتا ہے کہ یاتو وہ پوری نسل کو اُڑا کر رکھ دیتا ہے یا بنا دیتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسے پڑھانے کا لائسنس دیا جاتا ہے جس میں چھے خصوصیات ہوں: -1 متعلقہ مضمون پر مکمل مہارت  پہلی خصوصیت یہ کہ استاد کو اپنے مضمون پر مکمل مہارت ہو۔ مضمون پر مہارت کا مطلب ہے، اپنے مضمون کو وقت کے ساتھ ساتھ اپ گریڈ کرنا۔ -2 بات چیت/ابلاغ کی صلاحیت   دوسری خصوصیت یہ ہے کہ استاد میں بات چیت /ابلاغ کی صلاحیت ہو۔ ابلا...

عشر کسے کہتے ہیں

*کاشتکاروں کے خاص اور ضروری مساٸل*   *عُشْر کا بیان* : سوال  : عشر کسے کہتے ہیں ؟ جواب : زمین سے نفع حاصل کرنے کی غرض سے اُگائی جانے والی شے کی پیداوار پر جو زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے اسے عشر کہتے ہیں ۔ (الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس، ج۱، ص۱۸۵، ملخصاً) سوال :  زمین کی زکوٰۃ کو عشر کیوں کہتے ہیں ؟ جواب :  زمین کی پیداوار کا عموماً دسواں( 10 / 1)حصہ بطورِ زکوٰۃ دیا جاتا ہے اس لئے اسے عشر (یعنی دسواں حصہ)کہتے ہیں ۔ عشر کے فضائل سوال : عشر دینے کی کیافضیلت ہے ؟ جواب : عشر کی ادائیگی کرنے والوں کوانعاماتِ آخرت کی بشارت ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) تر جمہ کنزالایمان : اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ۔(پ۲۲، سبا  : ۳۹) سورہ بقرہ میں ہے  : مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ ...

موکل کی بتائی ہوئی رقم سے زائد قیمت میں بیچنا جائز ہے

حضور ۔۔۔۔ اگر کوئ دوکان والا کسی شخص کو اپنی دوکان پر یہ کہ کر چھوڑ کر گیا کہ یہ سامان ١٢٠٠ یا ١٣٠٠ میں بیچ دینا ۔۔۔ اب گاہک آیا تو اس شخص نے صاحب دوکان کا مال  ١٥٠٠میں بیچا ۔۔۔۔ ٢٠٠ اپنی جیب میں رکھے اور ١٣٠٠ صاحب دوکان کو دیے ۔۔ تو یہ ٢٠٠ روپے اس شخص کے لیے حلال ہوۓ یا حرام۔۔۔؟؟ رہنمائ فرمائیں۔۔۔۔  ساٸل۔ عون محمد ممبٸی  الجواب بعون الملک الوھاب  وکیل بالبیع کے لئے موکل کی بتائی ہوئی رقم سے زائد قیمت میں بیچنا جائز ہے البتہ اس زائد رقم کا مالک موکل ہے نہ کہ وکیل اس لئے وکیل کے لئے اس زائد رقم کو رکھنا جائز نہیں ہے۔  فرع: الوکیل إذا خالف، إن خلافا إلی خیر في الجنس کبیع بألف درہم فباعہ بألف ومأة نفذ (وفي الشامی) قال في الہامش: وکلہ أن یبیع عبدہ بألف وقیمتہ کذلک ثم زاد قیمتہ إلی ألفین لا یملک بیعہ بألف بزازیة(شامی: ۸/۲۵۷، کتاب الوکالة، ط: زکریا) الوکیل بالبیع یجوز بیعہ ․․․․․․ بالکثیر ․․․․․․ عند أبي حنیفة -رحمہ اللہ تعالی- ہندیة: ۳/۴۹۹، کتاب الوکالة، ط: اتحاد دیوبند۔ واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب

فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں نماز اگرچہ ہو جائےگی تاہم

تفصیل کچھ اس طرح ہے  وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ  موجودہ صورت حال کے پیش نظر سماجی دوری کی جو حد لگاٸی گٸی ہے  اس پر عمل کرتے ہوٸے مسجد کےاندر جماعت سے نماز ادا کی جاسکتی ہے اور اس طرح کراہت کےساتھ اقتدا درست ہے اور جماعت کا ثواب مل جاٸےگا ۔ با جماعت نماز میں اقتدا کے درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کی جگہ کا متحد ہونا شرط ہے خواہ حقیقتاً متحد ہوں یا حکماً، مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد یہ تمام جگہ بابِ اقتدا میں متحد ہیں، لہٰذا مسجد ، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد میں اگر امام اور مقتدی، یا مقتدیوں کی صفوں کے درمیان دو صفوں کی مقدار  یا  اس سے زیادہ فاصلہ ہو تب بھی صحتِ اقتدا سے مانع نہیں ہوگا، اور نماز ادا ہوجائے گی، مگر فاصلہ چھوڑنا مکروہِ تحریمی ہے۔ البتہ اگر امام اور مقتدی اور دوسری صفوں کے درمیان شارع عام ہو ( یعنی ایسا کشادہ راستہ ہو جہاں سے گاڑی وغیرہ گزرسکے) یا ایسی وسیع نہر ہو جس سے چھوٹی کشتی گزرسکے، یا حوض شرعی (دہ در دہ) ہو تو یہ اشیاء (شارع عام، وسیع نہر، حوضِ شرعی) مسجد کے اندر بھی اتصال سے مانع ہیں، اس لیے ان رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے اقتداصحیح نہیں...

زنا کی اور اس سے حمل قرار پایا

*❣حالت حمل میں نکاح وثبوت نسب کابیان❣* السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ  علماء کرام بارگاہ میں ایک سوال عرض ھیکہ زید نے ہندہ کے ساتھ زنا کی اور اس سے حمل قرار پایا گیا  بعد میں زید نے ہندہ سے نکاح کر لیا اب جو بچہ پیدا ہو وہ جایز ہے یا ناجائز حوالہ کے ساتھ جواب عطاء فرمائیں *فخر ازھر لنک⇩* 🔹شکی رضا بہرائچ شریف یوپی🔹* اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ *وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته* *اللھم ھوالھادی الی الصواب* صورت مسؤلہ میں لڑکی کا نکاح حالت حمل میں صحیح اور درست ہوگا؛  🔎البتہ اگر زانی ہی سے نکاح کیا جائے تو وہ ہمبستری بھی کر سکتا ہے اور اگر یہ نکاح جب کہ دوسرے سے ہو تو وہ ہمبستری نہیں کرسکتا ہے یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو جائے ، 📄"قال ابو حنیفہ و محمد رحمھمااللہ تعالی *یجوز ان یتزوج امرأۃ حاملا من الزنا ولایطؤھا حتی تضع ـ فی مجموع النوازل اذا تزوج امرأۃ قد زنی ھو بھا و ظھر بھا حبل فالنکاح جائز عندالکل کذا فی الذخیرۃ* *(📕 فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد 1 صفحہ ٢٨٠ )* 📃 اوردرمختارمع شامی میں ہے *"صح نکاح حبلی من زنا لا من غیرہ وان حرم و طؤھا و دواعیه حتی ت...

سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا ہے

الجواب بعون الملک الوھاب قبرستان میں نماز پڑھنا منع ہے جب کہ قبر سامنے ہو یا قبرپر کھڑا ہو کر نماز پڑھی جاٸے اس لیے کہ  مندرجہ ذیل حدیث میں ان سات مقامات میں سےجہاں نماز پڑھنے کی  ممانعت آٸی ہے  ایک قبرستان بھی ہے۔ :*حدیث:* حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی أنْ يُصَلَّی فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ،      وَقَارِعَةِ الطَّرِيْقِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَفِیْ مَعَاطِنِ الإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اﷲِ ترمذی، السنن، أبواب الصلاة، باب ما جاء فی کراهية ما يصلی إليه وفيه، 1 : 375، رقم : 346 ’’بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا : (1) کوڑاکرکٹ ڈالنے کی جگہ یعنی جہاں کوڑا کرکٹ ڈالی جاتی ہیں، (2) قصاب خانہ میں (جہاں جانوروں کو ذبح کیاجاتا ہے)، (3) قبرستان میں، (4) چلتے راستہ میں، (5) حمام میں (نہانے کی جگہ)، (6) اونٹوں کے باڑے میں، (7) بیت اﷲ کی چھت پر۔‘‘ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچے!(مضمون)

السلام وعلیکم  میسج کو پورا ضرور پڑھیں اور تصور کی آنکھوں سے دیکھیں  *سال2020 یعنی آج:* *سال 2120 یعنی کل.* اب سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیر زمین مدفون ہوگا. *الا ما شاء اللہ.* ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر رزق خاک ہوچکی ہوں گی.  *تب تک ہماری جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا.* جبکہ اس دوران سطح زمین کے اوپر ہمارے چھوڑے ہوئے گھر کسی اور کے ہوچکے ہوں گے.  ہمارے کپڑے کوئی اور پہن رہا ہوگا اور ہماری محنت اور محبت سے حاصل شدہ گاڑیاں کوئی اور چلارہا ہوگا۔ *اس وقت ہم کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں گے.* بھلا آپ اپنے پر دادا یا پر دادی کے بارے میں کبھی سوچتے ہیں کیا....؟  *تو کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچنے لگا؟؟* آج زمین کے اوپر ہمارا وجود, جس کی بنیاد پر یہاں ہمارا ہر وقت کا شور و شغب,  ہٹو بچو کی صدائیں اور ان گھروں کو آباد کرنے کے لیے ہماری محنت ومشقت, یہ سب کچھ ہم سے پہلے کسی اور کا تھا اور ہمارے بعد یقینی طور پر کسی اور کا ہونے والا ہے. *کوئی ایسا ہونے سے روک سکتا ہے تو روک لے.* اس دنیا سے گزرنے والی ہر نسل بمشکل اس پر ایک طائرانہ ...

ایک ہی مسجد میں دوسری جماعت نہیں

الجواب بعون الملک الوھاب واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں ایسی مسجد میں ایک نماز  کی  دو جماعتیں کرانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے جس میں امام و مؤذن مقرر ہو اور اس کے مخصوص نمازی بھی ہوں، صحابہ کا معمول بھی یہ ہی تھا کہ جب مسجد میں آتے اور  وہاں نماز ہوچکی ہوتی تو بعض دوسری مسجد کی جماعت میں شامل ہوتے اور بعض انفرادی نماز ادا کرتے تھے، اسی مسجد میں دوسری جماعت نہیں کراتے تھے،  ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو فریقوں کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے تھے، واپس تشریف لائے تو جماعت ہوچکی تھی، آپ نے گھر والوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز ادا فرمائی، اگر فرض نماز کی دوسری جماعت مسجد میں بلاکراہت درست ہوتی تو رسول اللہ ﷺ خود بیانِ جواز کے لیے وہاں جماعت فرماتے، اسی بنا پر  فقہاء  ایک مسجد میں دوسری جماعت کرانے کی اجازت نہیں دیتے۔ بہرحال اگر کسی کی ایک جگہ جماعت نکل جائے تو اسے چاہیے کہ دوسری مساجد میں جا کر جماعت کی فضیلت حاصل کرے۔  یا عام نماز ہو تو گھر والوں کو جمع کرکے نماز باجماعت ادا کرلے، یا انفرادی نماز پڑھ  لے، اور اگر جمعے کی نماز ہو  اور دوسری م...

نکاح کس سے جائز ہے اور کس سے نہیں

الجواب بعون الملک الوھاب صورتِ مستفسرہ میں دور کی بھانجی سے نکاح شرعاً جاٸز ہے جن سے نکاح کرنا جاٸز نہیں ہے قرآن نے تفصیل کے ساتھ اس کو ذکر کردیا ہے چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے محرماتِ نکاح کی مکمل فہرست بیان کی ہے۔ سورہ النساء میں ارشاد ہے : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُواْ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا. وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَ...

جانماز کوپاوں سے درست کرنا

سوال ۔۔ ایک امام صاحب جانماز کوپاوں سے درست کرتے ہین یہ کیساہے  ۔۔ساٸل مولاناتصوراشرفی کٹیھار ۔۔۔ الجواب  ﷽  جانماز قابل تعظیم چیز ہے فتاوی رضویہ میں ہے جانماز معظم ہے {جلد ٩ ص ٥٤}لہذا پاوں سے درست درست نہیں امام صاحب کوچاہٸے کہ اس سے بچیں  واللہ تعالی اعلم  کتبہ فضیل یسینی خادم دارالعلوم مصطفاٸیہ درگاہ شریف چمنی بازار پورنیہ ٧ جولاٸی ٢٠٢٠

فوٹو کھینچنا کھینچوانا ایک ایسا فیشن ہوچکا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب بعون الملک الوھاب     *اللہ رحم فرماٸے تمام امتِ مسلمہ پر خصوصیت کے ساتھ عصر حاضر کے علما پر* کہ فوٹو کھینچنا کھینچوانا  ایک ایسا فیشن ہوچکا ہے اور ایسا لگتا ہے اس میں کوٸی گناہ ہی نہیں ہے (ماباشیم یا دیگرے کسے باشد) *تصویر کشی وتصویر سازی کا شرعی حکم:*   تصویر کھینچنا کھنچوانا ناجائز اور حرام ہے، احادیث میں اس پر سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ ”قیامت کے دن سب سے سخت عذا ب تصویر بنانے والوں کو ہوگا“، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ”جو شخص دنیا میں کوئی (جاندار) کی تصویر بنائے گا، قیامت میں اُس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اُس میں روح ڈالے، لیکن وہ ہر گز نہیں ڈال سکے گا“ (اس پر اُس کو شدید عذاب ہوگا)؛ البتہ ضرورتِ شدیدہ کے وقت تصویر کھنچوانے کی گنجائش ہے اور جو شخص بغیر کسی ضرورت کے شوقیہ تصویر کھنچواتا ہے، شرعاً وہ فاسق ہے، اُس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ تصویر کے بارے میں حکم شرعی یہی ہے، باقی جو علماء تصویر اور ویڈیو بنواتے ہیں، اُن کا عمل شریعت میں حجت نہیں، اس حوالے سے اُن کی ضرورت اور مجبوری سے ہم واقف نہیں ہیں۔ عن عبد...

باپ کی منکوحہ سے بیٹے کی نکاح

مزید تفصیل ملاحظہ کریں  أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقۡتًا ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو جن کے ساتھ تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں مگر جو گزر چکا، بیشک ایسا فعل بےحیائی اور موجب غضب ہے اور بہت برا طریقہ ہے ؏ تفسیر: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو جن کے ساتھ تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں مگر جو ہوچکا ‘ بیشک ایسا فعل بےحیائی اور موجب غضب ہے اور بہت ہی برا طریقہ ہے۔ (النساء : ٢٢ ) باپ کی منکوحہ سے بیٹے کے نکاح کے متعلق مذاہب فقہاء :  عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ محرمات کو حرام قرار دیتے تھے لیکن اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے نکاح کو جائز سمجھتے تھے ‘ اسی طرح دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی جائز سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کاموں کو حرام قرار دیدیا۔  اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جس عورت سے باپ نے...

مسجد کی فضیلت اور اسکے احکام

*مسجد کی صفاٸی اور عصرِ حاضر کےمسلمان*:  آج کل لوگ مسجد کے مٶذن اور صفاٸی کرنے والوں کو حقارت آمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ العیاذ باللہ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : ”ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ “ (سورةالحج ، آیت نمبر ٣٢) *شعاٸر:* عرف شریعت میں عبادات کے مکانات اور زمانوں اور علامات کو کہتے ہیں۔ مکانات عبادت جیسے کعبہ۔ عرفہ، مزدلفہ، جمرات ثلاث صفا ومروہ۔ منی و جمیع مساجد وغیرہ۔ زمانے (اوقات) جیسے رمضان اور اشہر حج۔ عیدین۔ جمعہ اور علامات جیسے اذان، اقامت، نماز باجماعت وغیرہ۔ [ انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ124 ، سورۃ البقرہ،158]  شعائر شعیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہے علامت۔ اصطلاح شریعت میں دین اللہ کی تمام علامات شعائر کہلاتی ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، زکوۃ، حج، اذان، اقامت اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔ *شعائر اللہ کی حقیقت:* مسجد اللہ کا گھر ہے اور یہ دین حنیف کے شعاٸر میں سے ہےاور شعاٸرِ دین کی تعظیم اور اس کا احترام دل کے تقوی میں سے ہے شعائرجس کے معنی علامت یاکسی ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو کسی حقیقت کا احساس دلانے و...

ek beti ki kahani jo zindagi badal de

Bap Beti ki kahani ‏بیٹی بد دل ہو کر میکے آ گئی‘ باپ نے کہا تمہارے ہاتھ کا کھانا کھائے بہت دن ہو گئے ہیں آج میرے  لئے ایک انڈا اور ایک آلو ابال دو اور ساتھ میں ایک گرما گرم کافی  لیکن 20 منٹ تک چولہے پر رکھنا  جب سب کچھ تیار ہو گیا تو کہا آلو چیک کر لو۔ ٹھیک سے گل کر نرم ہو گیا ہے‘ ‏اب انڈا چھو کر دیکھو۔  ہارڈ بوائل ہوگیا ہے اور کافی بھی چیک کرو‘ رنگ اور خوشبو آ گئی ہے؟  بیٹی نے چیک کر کے بتایا کہ سب پرفیکٹ ہے۔باپ نے کہا‘ دیکھو تینوں چیزوں نے گرم پانی میں یکساں وقت گزارا اور برابر کی تکلیف برداشت کی ‘ آلو سخت ہوتا ہے‘ اس آزمائش سے گزر کر وہ نرم ہو گیا‘ ‏انڈا نرم ہوتا ہے ‘ گرے تو ٹوٹ جاتا ہے لیکن اب سخت ہو گیا ہے ۔ اور اس کے اندر کا لیکویڈ بھی سخت ہو چکا ہے‘  کافی نے پانی کو خوش رنگ‘ خوش ذائقہ اور خوش بودار بنا دیا ہے‘ تم کیا بننا چاہو گی؟  آلو‘ انڈہ یا کافی؟ یہ تمہیں سوچنا ہے ‘خودتبدیل ہو جاؤ یا پھر کسی کو تبدیل کر دو‘  ‏ڈھل جاؤ یا ڈھال دو‘ یہی زندگی گزارنے کا فن ہے ‘ سیکھنا‘ اپنانا‘ تبدیل ہونا‘ تبدیل کرنا‘ ڈھلنا اور ڈھل جانا‘ یہ اسی وقت ممکن ہے‘...