مسجد کی فضیلت اور اسکے احکام

*مسجد کی صفاٸی اور عصرِ حاضر کےمسلمان*: 

آج کل لوگ مسجد کے مٶذن اور صفاٸی کرنے والوں کو حقارت آمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ العیاذ باللہ
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : ”ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ “
(سورةالحج ، آیت نمبر ٣٢)

*شعاٸر:* عرف شریعت میں عبادات کے مکانات اور زمانوں اور علامات کو کہتے ہیں۔ مکانات عبادت جیسے کعبہ۔ عرفہ، مزدلفہ، جمرات ثلاث صفا ومروہ۔ منی و جمیع مساجد وغیرہ۔ زمانے (اوقات) جیسے رمضان اور اشہر حج۔ عیدین۔ جمعہ اور علامات جیسے اذان، اقامت، نماز باجماعت وغیرہ۔
[ انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ124 ، سورۃ البقرہ،158] 
شعائر شعیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہے علامت۔ اصطلاح شریعت میں دین اللہ کی تمام علامات شعائر کہلاتی ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، زکوۃ، حج، اذان، اقامت اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔

*شعائر اللہ کی حقیقت:*
مسجد اللہ کا گھر ہے اور یہ دین حنیف کے شعاٸر میں سے ہےاور شعاٸرِ دین کی تعظیم اور اس کا احترام دل کے تقوی میں سے ہے
شعائرجس کے معنی علامت یاکسی ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی اس کا مظہر اور اس کا نشان ہو۔ چنانچہ ہمارے دین میں جن چیزوں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے اگر آپ ان کی حیثیت، حقیقت اور تاریخ پر غور کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ وہ واقعی اللہ کی یاد دلانے والی، اللہ کاشوق پیدا کرنے والی، اس کے دین کی طرف مائل کرنے والی اور اس کے راستے میں سرفروشی کا جذبہ پیدا کرنے والی ہیں۔ 
 یہ صحیح ہے کہ یہ چیزیں مقصودِباالذات نہیں ہیں کیونکہ مقصود بالذات تو وہ حقائق ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتے ہیں۔ لیکن ان چیزوں کو شعائر کی حیثیت چونکہ اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہے اس لیے ان کو ایک احترام اور تقدیس کا درجہ مل گیا ہے اور مسلمانوں کے لیے ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔
[ تفسیر روح القرآن،ڈاکٹرمحمد ا سلم صدیقی،سورۃ البقرہ 158 ]


*امامِ اہلسُنَّت اور مسجد کا ادب:*

رمضان  کابابرکت مہینہ تھااورسرزمینِ ہند کے تاریخی شہربریلی  شریف میں مُوسَلا دھار بارش برس رہی تھی،اُوپر سے ایسی سَخْت سردی تھی کہ لوگ اُونی کپڑے پہنے لحافوں میں دَبکے ہوئے تھے، مگر اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت، مُجدِّدِ دین و مِلّت،پروانۂ شمع رسالت،مولانا شاہ امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فیضانِ رمضان سے فیضیاب ہونے کیلئے مسجد میں مُعْتَکِفْ تھے،ہرلمحہ یادِ خدا وذِکْرِ مصطفےٰمیں گُزر رہا تھا۔لوگ مغرب کی نماز پڑھ کر جا چکے تھےاوراب گھڑی کی سُوئی عشاء کا وَقْت قریب ہونے کی خبر دے رہی تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کونمازِعشاء کے لئے وُضو کی فکر ہوئی! مگروہاں بارش کے ٹھنڈے پانی سے بچ کروُضُو کرنے کی کوئی جگہ مُیَسَّر نہیں تھی۔مسجد میں کرتے ہیں تو فرشِ مسجدمستعمل پانی سے آلُودہ ہوتا ہے اور باہر جانہیں سکتے!کریں تو  کریں کیا! 
مگر جسےاللہ عَزَّ  وَجَلّ اپنے دِیْن کے لئے چُن لیتا ہے اُسے فَہْم وفراست سے بھی نواز دیتا ہے۔چنانچہ پیکرِ خوف وخَشیّت،سراپااَدب ومحبّت اعلیٰ حضرت، امام اہلسُنَّت  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے اس مسئلہ کا ایسا خوبصورت حل نکالا،جسے دیکھ کر ہر مسجد کاادب کرنے والا اَش اَش کراُٹھےگاکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے اَوڑھنے کے لحاف کو تہہ کرکے موٹا کیا اور اسی پر بیٹھ کر وضو کرلیااور پُوری رات ٹھٹھر ٹھٹھر کر جاگتے ہوئے گُزار دی، لیکن وضوکے پانی کا ایک قطرہ بھی مسجد کے فرش پر نہ گِرنے دیا۔
(فیضانِ اعلیٰ حضرت،باب عادات مبارکہ ومعمولات،ص۱۲۱، بتغیر)

*مسجد کی بے اَدبی کی مُختلف صُورتیں:*

قارٸین کرام! اوپر بیان کردہ واقعے سے اندازہ لگایئے کہ اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسُنَّت  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے دل میں مسجد کے ادب واحترام کا کیسا جذبہ تھا کہ  بارش اور سخت سردی کی رات میں خُودتو تکلیف اُٹھالی، مگرمسجد میں پانی کا ایک قطرہ بھی گِرنے نہیں دیا۔مگرافسوس! آج ہمارے مُعاشرے میں بہت بڑی  تعدادایسی ہے جو مسجد کے آداب سے نا آشنا ہے۔ عُموماً لوگ  وُضو کرنے کے بعدمسجد کی دَریوں اور فرش پرگِیلے پیروں کے نشانات بناتے نیز  ہاتھوں اورچہرے سے پانی کے قطرے ٹپکاتے چلے جاتے ہیں ۔یاد رکھئے! اَعضائے وُضُوسے پانی کے قطرے فرشِ مسجِدپرگرانا ناجائز وگُناہ ہے۔(بہارِ شریعت، ۱/۶۴۷)
اسی طرح رَمَضانُ المُبارک میں اِعْتکاف کرنےوالے بعض اَفْراد بھی مسجد کے اِحْتِرام کو پَسِ پُشت ڈال کر  خُوب گپیں ہانکتے، قہقہے مارتے ،پان ،گٹکےچَباتےاور پھر مسجد کے کسی کونےمیں تُھوکتے نظر آتے ہیں ،کبھی مسجد کی دَریوں کے دھاگے نوچتے ہیں ۔اس طرح کرنے سے  مسجد کا تَقَدُّس پامال ہوتا ہے ۔ مسجد کی صفائی سُتھرائی رکھنے کا تو خُود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  حکم ارشاد فرمارہاہے،  چُنانچہ پارہ 1سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آیت نمبر 125 میں اِرْشاد ہوتاہے:

”وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ“ 
(۱۲۵)(پ۱،البقرة:۱۲۵)

 ترجَمۂ کنز الایمان:اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خُوب سُتھرا کرو طَواف والوں اور اِعْتکاف والوں اور  رُکُوع و سُجود والوں کے لئے۔

مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت مُفْتی احمد یارخان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں کو پاک وصاف رکھا جائے۔ وہاں گندگی اور بدبُو دار چیز نہ لائی جائے۔ (نور العرفان،پ ۱، البقرة، تحت الآیة:۱۲۵)

مسجدوں کا کچھ ادب ہائے!نہ مجھ سے ہو سکا

ازطفیلِ مُصطفیٰ فرما اِلٰہی درگزر

(وسائلِ بخشش ص 637)

محترم قارٸین!یقیناً یہ ہم سب کی ذِمّہ داری ہے کہ حُکمِ قرآنی پرعمل کرتے ہوئے مسجدوں کو ہر طرح کی گندگی اور بدبُودار چیزوں سے بچا کر صاف سُتھرا رکھیں ۔ اَحادیثِ مُبارَکہ میں بھی ہمیں اسی بات کا حکم ملتا ہے۔جیسا کہ
حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضُورنبیِ رَحْمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرْشاد فرمایا: ”بیشک ان مسجدوں میں گندگی، پیشاب اور پاخانہ جیسی کوئی چیز جائز نہیں ۔یہ مسجدیں تو تلاوتِ قرآن، اللہ تعالٰی کے ذِکْر اور نماز کیلئے ہیں“ ۔ (مسند امام احمد، ۴/۳۸۱، حدیث:۱۲۹۸۳) ایک اورمقام پراِرْشادفرمایا: ”مسجدیں بناؤاوران میں سے گردوغُبارنکال دیا کرو کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رِضا کیلئے مسجد بنائے گا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے لئے جَنَّت میں ایک گھر بنائے گا“ ۔
 ایک شخص نے عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم!کیا مسجدیں گُزر گاہوں پر بنائی جائیں ؟ اِرْشاد فرمایا: ہاں !اوران میں سے گرد وغُبار صاف کرنا حُورِعین کا مہر ہے۔
(مجمع الزوائد،کتاب الصلوة ،باب بناء المسجد،۲ /۱۱۳، حدیث: ۱۹۴۹)
معلوم ہوا کہ  مسجد کی صَفائی کرنا،بہت ہی عظیمُ الشَّان اور فضیلت والا کام ہے۔آیئے! اس ضمن میں ایک روایت سُنتے ہیں ۔

 *مسجد کی صفائی پر انوکھا انعام:*

     حضرتِ سیدنا عُبَید بن مَرزُوق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مدینہ شریف زَادَ ہَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعۡظِیۡمًا میں ایک عورت مسجد کی صَفائی کیا کرتی تھی۔جب اس کا اِنتقال ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کے بارے میں خبرنہ دی گئی۔ایک مَرتَبہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی قَبْر کے قریب سے گُزرے تو دریافت فرمایا: ''یہ کس کی قبر ہے؟'' توصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی،'' اُمِّ مِحْجَنْ کی، ''فرمایا ،''وہی جومَسجد کی صَفائی کیا کرتی تھی ؟'' صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی، ''جی ہاں ۔'' تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کواس کی قَبْر پرصَف بنانے کا حکم دیا اور اُس کی نَماز ِجنازہ پڑھائی۔ پھر اس عورت کومُخاطَب کرکے فرمایاکہ'' تُو نے کون ساکام سب سے افضل پایا ؟'' صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم نےعرض کیا،''یَارَسُوْلَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!کیایہ سُن رہی ہے؟'' ارشاد فرمایا، '' تم اس سے زِیادہ سُننے والے نہیں ہو۔''پھر رسول ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ''اس (عورت) نے میرے سوال کے جواب میں کہا،'' مسجدکی صَفائی کو(میں نے سب سےاَفْضل عمل پایا)۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الصلوۃ، الترغیب فی تنظیف المساجد وتطھیرھا الخ ، رقم ۴ ، ج ۱، ص ۱۲۲)

معزز قارٸین!دیکھا آپ نے مسجد سے مَحَبَّت کرنا اوراس کی صفائی ستھرائی میں حصّہ لینا کیسا پیارا عمل ہے کہ اس کی برکت سے اس عورت کی نمازِجنازہ، ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی پڑھائی۔
اللہ تعالی اپنے پیارےنبی کے صدقہ وطفیل ہم سب کو مسجد کے ادب واحترام اور صفاٸی وستھراٸی کا خیال رکھنےکی توفیق عطافرماٸے آمین ۔
 *مرتب:*  ابوعاطف محمد شہروز رشیدی مصباحی پورنوی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں نماز اگرچہ ہو جائےگی تاہم

موکل کی بتائی ہوئی رقم سے زائد قیمت میں بیچنا جائز ہے

نکاح کس سے جائز ہے اور کس سے نہیں