زنا کی اور اس سے حمل قرار پایا

*❣حالت حمل میں نکاح وثبوت نسب کابیان❣*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ 
علماء کرام بارگاہ میں ایک سوال عرض ھیکہ زید نے ہندہ کے ساتھ زنا کی اور اس سے حمل قرار پایا گیا 
بعد میں زید نے ہندہ سے نکاح کر لیا اب جو بچہ پیدا ہو وہ جایز ہے یا ناجائز حوالہ کے ساتھ جواب عطاء فرمائیں
*فخر ازھر لنک⇩*
🔹شکی رضا بہرائچ شریف یوپی🔹*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته*

*اللھم ھوالھادی الی الصواب* صورت مسؤلہ میں لڑکی کا نکاح حالت حمل میں صحیح اور درست ہوگا؛ 

🔎البتہ اگر زانی ہی سے نکاح کیا جائے تو وہ ہمبستری بھی کر سکتا ہے اور اگر یہ نکاح جب کہ دوسرے سے ہو تو وہ ہمبستری نہیں کرسکتا ہے یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو جائے ،

📄"قال ابو حنیفہ و محمد رحمھمااللہ تعالی *یجوز ان یتزوج امرأۃ حاملا من الزنا ولایطؤھا حتی تضع ـ فی مجموع النوازل اذا تزوج امرأۃ قد زنی ھو بھا و ظھر بھا حبل فالنکاح جائز عندالکل کذا فی الذخیرۃ*
*(📕 فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد 1 صفحہ ٢٨٠ )*

📃 اوردرمختارمع شامی میں ہے *"صح نکاح حبلی من زنا لا من غیرہ وان حرم و طؤھا و دواعیه حتی تضع و لو نکحھا الزانی حل له وطؤھا اتفاقا*
*( 📘 درمع الرد" جلد ٢صفحہ ٣١٦)*

*(📕فتاوی فقیہ ملت جلد ١ صفحہ ٣٧٥ )*

🔎 اور اگر واقعی نکاح سے پہلے ان دونوں کا ناجائز تعلق تھا تو وہ دونوں سخت گنہ گار مستحق عذاب قہار ہیں ان کو علانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور نماز کی پابندی کا ان سے عہد لیا جائے اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنےنیز مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے اور غرباو مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کی جائے کہ نیکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہیں ، 

📃اللہ تعالٰی کا فرمان ہے
*ومن تاب وعمل صالحا فانه یتوب الی اللہ متابا*
*(📗 القرآن پارہ ١٩ رکوع ٤)*

♻اور ان دونوں کے والدین کو بھی توبہ کرایا جائے اگر انکی غفلت ولا پرواہی سے لڑکا لڑکی کا ناجائز تعلق ہوا

 باقی زناکرنے کیوجہ سے حمل ٹھہرنے کے بعد زانی سے نکاح کرنے کی صورت میں اگر نکاح کے چھ مہینے بعد اس حمل سے بچہ پیدا ہو تو وہ بچہ ثابت النسب ہوگا، لیکن اگر نکاح کے بعد چھ ماہ گزرنے سے پہلے ہی بچہ پیدا ہوگیا تو پھر اس بچہ کا اس زانی سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور وہ بچہ ولد الزنا ہی کہلائے گا۔ البتہ اس صورت میں  اگر زانی اس بچے کے باپ ہونے کا اقرار کرلیتا ہے اور زنا کا ذکر نہیں کرتا تو بھی اس بچے کا نسب اس سے ثابت ہوجائے گا

*(قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر، مختار النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر وقت النکاح لا یثبت النسب*
*( 📔الدر المختار مع الشامي جلد٤ ص ١٤٢ مکتبہ زکریا )*

*🌹واللہ اعلم وعلمہ احکم واتم🌹*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ و مولانا امجد رضا امجدی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی سیتامڑھی بہار*
*🗓 ۱۲ مارچ ٠٢٠٢؁ء مطابق ۱۶ رجب المرجب ۱۴۴۱؁ھ بروز جمعرات*
*رابطہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجوابــــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح فقط محمدامجدعلی نعیمی،رائےگنج اتر دیناج پور مغربی بنگال،خطیب وامام مسجدنیم والی مرادآباد اترپردیش الھند*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فخر ازھر گروپ میں ایڈ کے لئے🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فــخــر ازھــر گــروپ*
*محمدایـوب خان یارعلوی بہرائچ شریف*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

تبصرے