فوٹو کھینچنا کھینچوانا ایک ایسا فیشن ہوچکا ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
*اللہ رحم فرماٸے تمام امتِ مسلمہ پر خصوصیت کے ساتھ عصر حاضر کے علما پر* کہ فوٹو کھینچنا کھینچوانا ایک ایسا فیشن ہوچکا ہے اور ایسا لگتا ہے اس میں کوٸی گناہ ہی نہیں ہے (ماباشیم یا دیگرے کسے باشد)
*تصویر کشی وتصویر سازی کا شرعی حکم:*
تصویر کھینچنا کھنچوانا ناجائز اور حرام ہے، احادیث میں اس پر سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ ”قیامت کے دن سب سے سخت عذا ب تصویر بنانے والوں کو ہوگا“، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ”جو شخص دنیا میں کوئی (جاندار) کی تصویر بنائے گا، قیامت میں اُس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اُس میں روح ڈالے، لیکن وہ ہر گز نہیں ڈال سکے گا“ (اس پر اُس کو شدید عذاب ہوگا)؛ البتہ ضرورتِ شدیدہ کے وقت تصویر کھنچوانے کی گنجائش ہے اور جو شخص بغیر کسی ضرورت کے شوقیہ تصویر کھنچواتا ہے، شرعاً وہ فاسق ہے، اُس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ تصویر کے بارے میں حکم شرعی یہی ہے، باقی جو علماء تصویر اور ویڈیو بنواتے ہیں، اُن کا عمل شریعت میں حجت نہیں، اس حوالے سے اُن کی ضرورت اور مجبوری سے ہم واقف نہیں ہیں۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال سمعتُ النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ان أشدَّ الناس عذاباً عند اللّٰہ المصوّرون۔ (صحیح البخاري، باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة، رقم: ۵۹۵۰) عن قتادة قال کنتُ عند ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ (الی قولہ) حتی سئل، فقال: سمعتُ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من صور صورةً في الدنیا، کلف یوم القیامة أن ینفخ فیہا الروح و لیس بنافخ۔ (صحیح البخاري، باب بیان عذاب المصورین یوم، القیامة) وقال العیني نقلاً عن التوضیح: قال أصحابنا و غیرہم تصویرُ صورة الحیوان حرام أشد التحریم و ہو من الکبائر و سواء صنعہ لما یمتہن أو لغیرہ فحرام بکل حال، لأن فیہ مضاہات بخلق اللّٰہ۔۔۔۔ أما مالیس فیہ صورة حیوان کالبحر ونحوہ، فلیس بحرام، و بمعناہ قال جماعة العلماء مالک والسفیان وأبو حنیفة و غیرہم۔{رحمھم اللہ تعالی} (عمدة القاري: ۱۰/ ۳۰۹، باب عذاب المصورین یوم القیامة، ط: دار الطباعة العامرة) وقال النووي: تصویرُ صورة الحیوان حرام شدید التحریم، وہو من الکبائر لأنہ متوعد علیہ بہذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث۔۔۔۔۔۔ الخ۔ (النووي علی مسلم: ۲/ ۱۹۹، ط: رحیمیة، دیوبند، و کذا في رد المحتار مع الدر المختار: ۲/ ۴۰۲، مطلب اذا تردد الحکم بین سنة و بدعة، و الفتاوی الہندیة: ۵/ ۳۷۹، والبدائع: ۱/ ۱۱۶، ط: زکریا، دیوبند)
واللہ تعالی ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں