موکل کی بتائی ہوئی رقم سے زائد قیمت میں بیچنا جائز ہے

حضور ۔۔۔۔
اگر کوئ دوکان والا کسی شخص کو اپنی دوکان پر یہ کہ کر چھوڑ کر گیا کہ یہ سامان ١٢٠٠ یا ١٣٠٠ میں بیچ دینا ۔۔۔
اب گاہک آیا تو اس شخص نے صاحب دوکان کا مال  ١٥٠٠میں بیچا ۔۔۔۔
٢٠٠ اپنی جیب میں رکھے اور ١٣٠٠ صاحب دوکان کو دیے ۔۔
تو یہ ٢٠٠ روپے اس شخص کے لیے حلال ہوۓ یا حرام۔۔۔؟؟
رہنمائ فرمائیں۔۔۔۔ 
ساٸل۔ عون محمد ممبٸی 
الجواب بعون الملک الوھاب 
وکیل بالبیع کے لئے موکل کی بتائی ہوئی رقم سے زائد قیمت میں بیچنا جائز ہے البتہ اس زائد رقم کا مالک موکل ہے نہ کہ وکیل اس لئے وکیل کے لئے اس زائد رقم کو رکھنا جائز نہیں ہے۔ 
فرع: الوکیل إذا خالف، إن خلافا إلی خیر في الجنس کبیع بألف درہم فباعہ بألف ومأة نفذ (وفي الشامی) قال في الہامش: وکلہ أن یبیع عبدہ بألف وقیمتہ کذلک ثم زاد قیمتہ إلی ألفین لا یملک بیعہ بألف بزازیة(شامی: ۸/۲۵۷، کتاب الوکالة، ط: زکریا) الوکیل بالبیع یجوز بیعہ ․․․․․․ بالکثیر ․․․․․․ عند أبي حنیفة -رحمہ اللہ تعالی- ہندیة: ۳/۴۹۹، کتاب الوکالة، ط: اتحاد دیوبند۔
واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں نماز اگرچہ ہو جائےگی تاہم

نکاح کس سے جائز ہے اور کس سے نہیں