عشر کسے کہتے ہیں
*کاشتکاروں کے خاص اور ضروری مساٸل*
*عُشْر کا بیان* :
سوال : عشر کسے کہتے ہیں ؟
جواب : زمین سے نفع حاصل کرنے کی غرض سے اُگائی جانے والی شے کی پیداوار پر جو زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے اسے عشر کہتے ہیں ۔ (الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس، ج۱، ص۱۸۵، ملخصاً)
سوال : زمین کی زکوٰۃ کو عشر کیوں کہتے ہیں ؟
جواب : زمین کی پیداوار کا عموماً دسواں( 10 / 1)حصہ بطورِ زکوٰۃ دیا جاتا ہے اس لئے اسے عشر (یعنی دسواں حصہ)کہتے ہیں ۔
عشر کے فضائل
سوال : عشر دینے کی کیافضیلت ہے ؟
جواب : عشر کی ادائیگی کرنے والوں کوانعاماتِ آخرت کی بشارت ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹)
تر جمہ کنزالایمان : اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ۔(پ۲۲، سبا : ۳۹)
سورہ بقرہ میں ہے :
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)
ترجمہ کنزالایمان : ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگاہیں سات بالیں ۔ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے وہ جواپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، پھر دئیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ(انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہونہ کچھ غم۔(پ۳، البقرۃ : ۲۶۱، ۲۶۲)
سرورِ عالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی ترغیب ِ امت کے لئے کئی مقامات پر راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کے کئی فضائل بیان کئے ہیں : چنانچہ
حضرت سیدناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ''زکوۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبو ط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیمارو ں کا علا ج صدقہ سے کرو اور بلا نازل ہو نے پر دعا و تضرع (یعنی گریہ و زاری)سے اِستعانت (یعنی مدد طلب )کرو ۔''
(مراسیل ابی داؤد مع سنن ابی داؤد ، باب فی الصائم، ص۸)
اور حضرتِ سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی پاک صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلا ک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ''جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دی، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سے شر دور فرما دیا۔'' (المعجم الاوسط، باب الالف، الحدیث۱۵۷۹، ج۱، ص۴۳۱)
عشرادا نہ کرنے کا وبال
سوال : عشر ادا نہ کرنے کا کیا وبال ہے ؟
جواب : عشر ادا نہ کرنے والے کے لئے قرآن پاک واحادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-
ترجمہ کنزالایمان : اورجو بخل کرتے ہیں اس چیزمیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ، ہر گزاسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔ (پ۴، اٰل عمران : ۱۸۰ )
حضرتِ سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سرکار ، دو عالم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ''جس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ مال دے اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیا ں ہوں گی(یعنی دو نشان ہوں گے ) ، وہ سانپ ا س کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ، پھر اس (زکوۃ نہ دینے والے ) کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا : میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ۔ اس کے بعد نبی پاک، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت کی تلا وت فرمائی :
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-
ترجمہ کنزالایمان : اورجو بخل کرتے ہیں اس چیزمیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ، ہر گزاسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔ (پ۴، اٰل عمران : ۱۸۰ )( صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ ، باب اثم مانع الزکوۃ ، الحدیث۱۴۰۳، ج۱، ص۴۷۴)
حضرتِ سیدنا بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکا ر ِمدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ''جو قوم زکوۃ نہ دے گی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔''(المعجم الاوسط، الحدیث۴۵۷۷، ج۳، ص۲۷۵)
حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روا یت ہے کہ نبی کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : '' خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے ، وہ زکوۃ نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوتا ہے ۔''(کنزالعمال، کتاب الزکوۃ، الفصل الثانی فی ترہیب مانع الزکوۃ، الحدیث۱۵۸۰۳، ج۶، ص۱۳۱)
کس پیداوار پر عشرواجب ہے ؟
سوال : زمین کی کس پیداوار پر عشرواجب ہے ؟
جواب : جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود ہو خواہ وہ غلہ ، اناج اورپھل فروٹ ہوں یاسبزیاں وغیرہ مثلاً اناج اورغلہ میں گندم ، جو ، چاول ، گنا ، کپاس، جوار، دھان(چاول)، باجرہ، مونگ پھلی ، مکئی، اورسورج مکھی، رائی، سرسوں اورلوسن وغیرہ ۔
پھلوں میں خربوزہ، آم، امرود، مالٹا، لوکاٹ، سیب، چیکو، انار، ناشپاتی، جاپانی پھل، سنگ ترا، پپیتا ، ناریل، تربوز، فالسہ، جامن، لیچی، لیموں، خوبانی ، آڑو، کھجور ، آلوبخارا ، گرما، انناس، انگور ا و ر آلوچہ وغیرہ ۔
سبزیوں میں ککڑی، ٹینڈا، کریلا، بھنڈی توری، آلو ، ٹماٹر ، گھیا توری ، سبزمرچ، شملہ مرچ، پودینا ، کھیرا، ککڑی(تر)اور اروی ، توریا ، پھول گوبھی ، بندگوبھی ، شلغم، گاجر، چقندر، مٹر، پیاز، لہسن، ، پالک، دھنیااورمختلف قسم کے ساگ اورمیتھی اور بینگن وغیرہ۔ ان سب کی پیداوار میں سے عشر( یعنی دسواں حصہ) یا نصف عشر( یعنی بیسواں حصہ)واجب ہے ۔(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس، ج۱، ص۱۸۶)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں فرمایا :
وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ ﳲ
ترجمہ کنزالایمان : اور اس کا حق دوجس دن کٹے ۔(پ۸، الانعام : ۱۴۲)
امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ الرحمن لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین مثلاًحضرت ابن ِعباس، طاؤس، حسن، جابر بن زید اورسعید بن المسیّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے نزدیک اس حق سے مراد عشر ہے ۔(فتاوی رضویہ مُخَرّجَہ، کتاب الزکوۃ، ج۱۰، ص۶۵)
نبی کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ہر اس شئے میں جسے زمین نے نکالا، (اس میں )عشر یا نصف عشر ہے ۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ النبات والفوا کہ ، الحد یث ۳ ۷ ۸ ۵ ۱ ، ج ۶ ، ص ۰ ۴ ۱ )
حضرت ِ سیدنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، نورِ ِمجسّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جن زمینوں کو دریا اور بارش سیراب کرے ان میں عشر(دسواں حصہ دینا واجب) ہے اور جوزمینیں اونٹ کے ذریعے سیراب کی جائیں ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ واجب)ہے ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، باب مافیہ العشر اونصف عشر، الحدیث۹۸۱، ص۴۸۸ )
سوال : نصف عشر سے کیا مرادہے ؟
جواب : نصف عشر سے مراد بیسواں حصہ20 / 1ہے ۔(بہار شریعت ، ج۱حصہ۵، ص۹۱۶)
شہد کی پیداوار پرعشر
سوال : عشری زمین میں جو شہد پیدا ہو کیا اس پربھی عشر دینا پڑے گا؟
جواب : جی ہاں۔(الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکاۃ، الباب السادس ، ج ۱ ص ۱۸۶ )
کس پیداوار پر عشرواجب نہیں ؟
سوال : کن فصلوں پر عشر واجب نہیں ؟
جواب : جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود نہ ہوان میں عشر نہیں جیسے ایندھن ، گھاس، بید، سرکنڈا، ، جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )، کھجورکے پتے وغیرہ، ان کے علاوہ ہر قسم کی ترکاریوں اور پھلوں کے بیج کہ ان کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہو تی ہیں بیج مقصود نہیں ہوتے اورجو بیج دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مثلاًکندر ، میتھی اورکلونجی وغیرہ کے بیج، ان میں بھی عشر نہیں ہے ۔ اسی طرح وہ چیزیں جو زمین کے تا بع ہوں جیسے درخت اور جو چیزدرخت سے نکلے جیسے گوند ‘اس میں عشر واجب نہیں۔
البتہ اگرگھاس ، بید ، جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لئے خالی چھوڑ دی تو ان میں بھی عشر واجب ہے ۔کپاس اور بینگن کے پودوں میں عشر نہیں مگران سے حاصل کپاس اور بینگن کی پیداوار میں عشر ہے ۔(در مختار، کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۵، الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس فی زکوۃ زرع، ج۱، ص۱۸۶ )
عشر واجب ہو نے کے لئے کم ازکم مقدار
سوال : عشر واجب ہو نے کے لئے غلہ ، پھل اورسبزیوں کی کم ازکم کتنی مقدار ہوناضروری ہے ؟
جواب : عشر واجب ہو نے کے لئے ان کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ زمین سے غلہ ، پھل اورسبزیوں کی جتنی پیداوار بھی حاصل ہو اس پر عشر یا نصف عشر دینا واجب ہو گا۔(الفتاویٰ الھندیۃ، المرجع السابق)
پاگل اورنابا لغ پر عشر
سوال : اگر ان کی پیداوار کا مالک پاگل اورنابالغ ہوتو اس کو بھی عشر دینا ہوگا؟
جواب : عشر چونکہ زمین کی پیداوار پر ادا کیا جاتاہے لہذا جو بھی اس پیداوار کا مالک ہوگا وہ عشر ادا کرے گا چاہے وہ مجنون (یعنی پاگل)اور نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔
(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ، الباب السادس فی زکوۃ زرع، ج۱، ص۱۸۵ ، ملخصاً)
قرض دار پر عشر
سوال : کیا قرض دارکو عشر معاف ہے ؟
جواب : قرض دار سے عشر معاف نہیں ، اس لئے اگرقرض لے کر زمین خریدی ہو یاکاشت کا رپہلے سے مقروض ہویاقرض لے کر کاشت کاری کی ہوان سب صورتوں میں قرض دار پر بھی عشر واجب ہے ۔‘‘(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۴)
علامہ عالم بن علاء الانصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’زکوۃ کے برخلاف عشر مقروض پر بھی واجب ہوتا ہے ۔ ‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ، کتاب العشر، ج۲، ص۳۳۰)
شرعی فقیر پر عشر
سوال : کیا شرعی فقیر پر بھی عشر واجب ہوگا؟
جواب : جی ہاں ، شرعی فقیر پر بھی عشرواجب ہے کیونکہ عشر واجب ہونے کا سبب زمین ِنامی (یعنی قابل ِ کاشت)سے حقیقتاًپیداوار کا ہونا ہے ، اس میں مالک کے غنی یا فقیر ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ماخوذ من العنایۃ والکفایۃ، کتاب الزکوۃ، باب زکاۃالزروع، ج۲ص۱۸۸)
عشر کے لئے سال گزرنا شرط ہے یا نہیں ؟
سوال : کیا عشر واجب ہونے کے لئے سال گزرنا شرط ہے ؟
جواب : عشر واجب ہو نے کے لئے پوراسال گزرنا شرط نہیں بلکہ سال میں ایک ہی کھیت میں چند بارپیداوار ہو ئی تو ہر با ر عشر واجب ہے ۔(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکوۃ ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۳)
مختلف زمینوں کا عشر
سوال : مختلف زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے الگ الگ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ، تو کیا ہر قسم کی زمین میں عشر(یعنی دسواں حصہ ہی)واجب ہوگا؟
جواب : اس سلسلے میں تفصیل یہ ہے کہ
٭ جو کھیت بارش ، نہر ، نالے کے پانی سے (قیمت اداکئے بغیر)سیراب کیا جائے ، اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے ،
٭ جس کھیت کی آبپاشی ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے ہو ، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے ،
٭ اگر (نہر یا ٹیوب ویل وغیرہ کا)پانی خرید کر آبپاشی کی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملکیت ہے اس سے خرید کر آبپاشی کی ، جب بھی نصف عشر واجب ہے ،
٭ اگر وہ کھیت کچھ دنوں بارش کے پانی سے سیرا ب کر دیا جاتا ہے اور کچھ ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے ، تو اگر اکثربارش کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول (یا اپنے ٹیوب ویل )وغیرہ سے تو عشر واجب ہے ورنہ نصف عشر واجب ہے ۔(درمختارو رد المحتار، کتاب الزکوۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۶)
ٹھیکے کی زمینوں کاعشر
سوال : کیاٹھیکے پر دی جانے والی زمین کی پیداوار پر بھی عشر ہو گا ؟
جواب : جی ہاں ، ٹھیکے پر دی جانے والی زمین کی پیداوار پر بھی عشر ہو گا ۔
سوال : یہ عُشر کون ادا کرے گا ؟
جواب : اس عشر کی ادائیگی کاشتکار پر واجب ہو گی۔ (رد المحتار ، کتاب الزکوۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۴)
اگر خود فصل نہ بوئی توعشرکس پر ہے ؟
سوال : اگر زمین کا مالک خود کھیتی باڑی میں حصہ نہ لے بلکہ مزا رعوں سے کام لے تو عشر مزارع پر ہو گا یامالک ِزمین پر ؟
جواب : اس سلسلے میں دیکھا جائے گا کہ
اگرمزارع سے مراد وہ ہے جو زمین بٹائی پر لیتا ہے یعنی پیداوار میں سے آدھا یا تیسرا حصہ وغیر ہ مالک ِزمین کا اور بقیہ مزارع کاہو تو اس صور ت میں دونوں پر ان کے حصہ کے مطابق عشرواجب ہو گا۔ صدر الشریعۃ، بدر الطریقہ، مولانا امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہارشریعت میں فرماتے ہیں ، ’’عشری زمین بٹائی پر دی تو عشر دونوں پر ہے ‘‘ (بہارِ شریعت، ج۱، حصہ۵، ص۹۲۱)
اوراگر مزارع سے مرادوہ ہے کہ جس کو مالک ِزمین نے زمین اجارہ پر دی مثلاََ فی ایکڑ پچاس ہزار روپیہ تو اس صور ت میں عشر مزارع پر ہوگامالکِ زمین پر نہیں۔ (ماخوذ از بدائع الصنائع، ج۲ ، ص۸۴)
مشترکہ زمین کا عشر
سوال : جو زمین کسی کی مشترکہ ملکیت ہوتو عشر کو ن ادا کرے گا ؟
جواب : عشر کی ادائیگی میں زمین کا مالک ہونا شرط نہیں ہے بلکہ پیداوار کا مالک ہونا شرط ہے اس لئے جو جتنی پیداوار کا مالک ہو گا وہ اس پیداوار کا عشر ادا کرے گا۔فتاویٰ شامی میں ہے کہ ’’عشر واجب ہونے کے لئے زمین کا مالک ہو نا شرط نہیں بلکہ پیداوار کا مالک ہونا شرط ہے کیونکہ عشر پیداوار پر واجب ہو تا ہے نہ کہ زمین پر، اور زمین کا مالک ہو نا یا نہ ہونا دو نو ں برابر ہے ۔‘‘(ردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۴ )
گھریلو پیدوار پرعشر
سوال : گھر یا قبرستان میں جو پیداوار ہو اس پر عشر ہو گا یا نہیں ؟
جواب : گھر یا قبرستان میں جو پیداوار ہو ، اس میں عشر واجب نہیں ہے ۔(الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، مطلب مھم فی حکم اراضی مصر والشام السلطانیۃ، ج۳، ص۳۲۰)
عشر کی ادائیگی سے پہلے اخراجا ت الگ کرنا
سوال : کیاعشرکل پیداوار سے اداکیا جائے گا یا اخراجات وغیرہ نکال کر بقیہ پیداوارسے ادا کیا جائے گا؟
جواب : جس پیداوار میں عشر یا نصف عشر واجب ہو، اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیا جائے گا ۔ایسا نہیں ہے کہ زراعت ، ہل ، بیل ، حفاظت کر نے والے اور کام کرنے والو ں کی اجرت یا بیج، کھاداورادویات وغیرہ کے اخراجات نکال کر باقی کا عشر یانصف عشر دیا جائے ۔(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکوۃ، مطلب مہم فی حکم اراضی مصر والشام السلطانیۃ، ج۳، ص۳۱۷)
سوال : حکومت کو جو مالگزاری دی جاتی ہے کیا اسے بھی پیداوار سے نہیں نکالا جائے گا ؟
جواب : جی نہیں ، اس مالگزاری کو بھی پیداوار سے الگ نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے بھی شامل کر کے عشر کا حساب لگایا جائے گا ۔
عشر کی ادائیگی
سوال : عشر کب ادا کرنا ہو گا ؟
جواب : جب پیداوار حاصل ہوجائے یعنی فصل پک جائے یا پھل نکل آئیں اورنفع اٹھانے کے قابل ہوجائیں تو عشر واجب ہوجائے گا ۔فصل کاٹنے یا پھل توڑنے کے بعد حساب لگا کر عشر ادا کرنا ہوگا ۔ (الدرالمختار و ردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب العشر، مطلب مہم فی حکم اراضی ۔۔۔۔الخ، ج۳، ص۳۲۱)
عشر پیشگی ادا کرنا
سوال : کیا عشر پیشگی طور پرادا کیا جا سکتا ہے ؟
جواب : اس کی چند صورتیں ہیں :
(۱ )جب کھیتی تیار ہوجائے تو اس کا عشر پیشگی دینا جائز ہے ۔
(۲)کھیتی بو نے اور ظاہر ہونے کے بعدادا کیا تو بھی جائز ہے ۔
(۳)اگر بونے کے بعد اورظاہر ہونے سے پہلے ادا کیا تو اظہر (یعنی زیادہ ظاہر) یہ ہے کہ پیشگی ادا کرنا جائز نہیں۔
(۴)پھلو ں کے ظاہر ہونے سے پہلے دیا تو پیشگی دیناجائز نہیں اورظاہر ہونے کے بعد دیا تو جائز ہے ۔(فتا وی عالمگیر ی ، کتاب الزکاۃ، ج ۱ ، ص ۱۸۶ )
اگرچہ ذکرکی گئی بعض صورتوں میں پیشگی عشر ادا کرنا جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ پیداوار حاصل ہونے کے بعد عشر ادا کیا جائے ۔(البحرالرائق، کتا ب الزکوۃ، ج۲، ص ۳۹۲)
پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے سے مراد
سوال : پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے سے کیا مراد ہے ؟
جواب : اس سے مراد یہ ہے کہ کھیتی اتنی تیار ہوجائے اور پھل اتنے پک جائیں کہ ان کے خراب ہونے یا سوکھ جانے وغیرہ کا اندیشہ نہ رہے اگر چہ توڑ نے یا کاٹنے کے قابل نہ ہوئے ہو ں۔(ماخوذ از فتا وی رضویہ ، ج۱۰ ، ص۲۴۱)
پیداوار بیچ دی توعشرکس پر ہے ؟
سوال : پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے کے بعد پھل بیچے تو عشر بیچنے والے پر ہوگا یا خریدنے والے پر؟
جواب : ایسی صورت میں عشربیچنے والے پر ہوگا ۔(ماخوذ از فتا وی رضویہ ، ج۱۰ ، ص۲۴۱)
عشر کی ادائیگی میں تاخیر
سوال : عشر ادا کر نے میں تا خیر کرنا کیسا؟
جواب : عشر پیداوار کی زکوۃ کا نام ہے اس لئے جو احکام زکوۃ کی ادائیگی کے ہیں ، وہی احکام عشر کی ادائیگی کے بھی ہیں۔اس لئے بغیر مجبوری کے اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار ہے اور اس کی شہادت (یعنی گواہی ) مقبول نہیں۔(الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ، الباب الاول ، ج۱، ص۱۷۰)
سوال : اگر کوئی عشر واجب ہو نے کے باوجود ادا نہ کرے تو کیا کرنا چاہئے ؟
جواب : جوخوشی سے عشرنہ دے تو بادشاہ اسلام جبراً (یعنی زبردستی)اس سے عشر لے سکتا ہے اور اس صورت میں بھی عشر ادا ہو جائے گا مگر ثواب کا مستحق نہیں اور خو شی سے ادا کرے تو ثواب کا مستحق ہے ۔‘‘(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ ، الباب السادس فی زکوۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۵)
مدینہ : یاد رہے کہ زبردستی عشر وصول کرنا بادشاہ ِ اسلام ہی کا کام ہے عام لوگوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ۔ ایسی صورت ِ حال میں اسے عشر اداکرنے کی ترغیب دی جائے اور رب تعالیٰ کی ناراضگی کا احساس دلایا جائے ۔ ایسے لوگوں کو رسالہ’’عُشر کے احکام‘‘ یا یہ کتاب’’فیضانِ زکوٰۃ‘‘ پڑھنے کے لئے تحفۃً پیش کرنا بھی بے حد مفید ہوگا ، اِنْ شَاءَ اللہ عزوجل ۔
عشرادا کرنے سے پہلے پیداوار کا استعمال
سوال : کیاعشر اد اکر نے سے پہلے پیداوار استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب : جب تک عشر ادا نہ کر دے یا پیداوار سے عشر الگ نہ کر لے ، اس وقت تک پیداوار میں سے کچھ بھی استعمال کرنا جائز نہیں اور اگر استعمال کر لیا تو اس میں جو عشر کی مقدار بنتی ہے اتنا تاوان ادا کرے البتہ تھوڑا سا استعمال کر لیا تو معاف ہے ۔(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، مطلب مھم فی حکم اراضی مصر الخ، ج۳، ص۳۲۱، ۳۲۲)
عشر دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو؟
سوال : جس پر عشر واجب ہو اوروہ فوت ہو جائے اور پیداوار بھی موجود ہے تو کیااس میں سے عشر دیا جائے گا؟
جواب : ایسی صورت میں اگرپیداوار موجود ہو تو اس پیداوار میں سے عشر دیا جائے گا۔(الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکوۃ، الباب الساد س فی زکاۃ الزرع، ج۱، ص۱۸۵)
عشر میں رقم دینا
سوال : کیا عشر میں صرف پیداوار ہی دینی ہوگی یا اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے ؟
جواب : موجودہ فصل میں سے جس قدر غلہ یا پھل ہوں ان کا پورا عشر علیحدہ کرے یا اس کی پوری قیمت(بطورِ عشر ) دے ، دونوں طرح سے جائز ہے ۔(الفتاوی المصطفویۃ، ص۲۹۸)
اگر طویل عرصے سے عشرادا نہ کیا ہوتو؟
سوال : اگر کئی سال عشر ادا نہ کیا ہو توکیا کِیا جائے ؟
جواب : عشر کی عدمِ ادائیگی پر توبہ کرے اورسابقہ سالوں کے عشر کا حساب لگا کر بقدرِ استطاعت ادا کرتارہے ۔(ماخوذ از الفتاوی المصطفویۃ، ص۲۹۸)
اگر فصل ہی کاشت نہ کی تو؟
سوال : اگر زراعت پر قادر ہو نے کے باوجود کسی نے فصل کاشت نہیں کی توکیا اس صورت میں بھی اس پر عشرواجب ہو گا ؟
جواب : اگر کسی نے زراعت پر قادر ہونے کے باوجود فصل کاشت نہیں کی تو پیداوار نہ ہونے کی بنا پراس پر عشر کی ادائیگی واجب نہیں کیونکہ عشر زمین پر نہیں اس کی پیداوار پر واجب ہوتا ہے ۔( ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر ، ج۳، ص۳۲۳)
فصل ضائع ہونے کی صورت میں عشر
سوال : اگر کسی وجہ سے فصل ضائع ہو گئی تو عشر واجب ہو گا ؟
جواب : کھیت بویا مگر پیداوار ضائع ہو گئی مثلاًکھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا سردی او ر لُوسے جاتی رہی توان سب صورتوں میں عشر ساقط ہے ، جب کہ کل جاتی رہی اوراگرکچھ باقی ہے تو اس با قی کا عشر لیں گے اور اگرجانور کھا گئے تو (عشر)ساقط نہیں اور (عشر)ساقط ہو نے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعد اس سال کے اندر اس میں دوسری زراعت تیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کا ٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں۔(ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ ، ج۳، ص۳۲۳)
عشر کس کو دیاجائے
سوال : عشر کسے دیا جائے ؟
جواب : عشر چونکہ کھیت کی پیداوار کی زکوۃ کا نام ہے ، اس لئے جن کو زکوۃدی جاسکتی ہے ان کو عشر بھی دیا جاسکتا ہے ۔(الفتاوی الخانیہ، کتاب الزکوۃ، فصل فی العشر فی مایخرجہ الارض ، ج۱، ص۱۳۲)
*مرتب:*
*خادم القوم* :
ابوعاطف محمد شہروزرشیدی مصباحی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں